8 ستمبر 1993
ایک ہند و جر نلسٹ مسٹر یشونت دیش مکھ انٹرویو کے لیے آئے۔ ان کے مختلف سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں آلو چنا (تنقید) کو برداشت نہیں کیا جاتا؟ میں نے کہا کہ یہ تو الٹی بات ہے۔ اسلام میں تو تنقید یا اختلاف کو پسند کیا جاتا ہے ۔ ایک حدیث ہے که :اخْتِلافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی،حدیث نمبر39)۔
اس میں اختلاف سے مراد وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں ڈسنٹ (dissent) کہا جاتا ہے یعنی اختلاف رائے۔ اسلام کے دور اول میں اختلاف رائے یا تنقید عام تھی۔ کوئی بھی آدمی کسی شخص پر تنقید کر سکتا تھا۔ اس سلسلہ میں میں دور اول کے کئی واقعات بتائے۔
مذکورہ جرنلسٹ بہت خوش ہوا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا کہ اسلام کے بارے میںمیرے بہت سے شبہات تھے۔ آج سب ختم ہو گئے۔
