8اپریل2004
مزماریہ کی پیدائش پولینڈ میں ہوئی۔ وہ ایک عیسائی ہیں مگر اسلام کا انہوں نے کافی مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک سکھ نوجوان سے شادی کی اور دہلی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے جامعہ سے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا ہے اور اب جامعہ سے پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پولینڈ میں مختلف مذاہب کی ایک کانفرنس ہوئی اس میں کئی عرب علما بھی شریک تھے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اسلام کو ایک تاریخی subjectکے طور پر لیتے ہیں:
We take Islam as a historical subject.
ماریہ نے بتایا کہ پروفیسر کے اس بیان پر عرب علما نے سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک تاریخی subjectنہیں ہے۔ اسلام ایک عقیدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں غلطی عرب علما کی تھی،نہ کہ مذکورہ پروفیسر کی۔ مسلم علما کو اگر یہ حق ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کو محرف مذاہب یا منسوخ مذاہب قرار دیں تو دوسرے اہل علم کو بھی یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے نظریہ کے مطابق اسلام اور دوسرے مذاہب کو تاریخی مظاہرہ (historical phenomenon)بتائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی بھی یک طرفہ نہیں ہوسکتی۔ اگر ہم اپنے لیے رائے کی آزادی چاہتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی ہمیں رائے کی آزادی دینا ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ اس طرح کے اختلاف ہمیشہ ڈائلاگ کا موضوع ہوتے ہیں ، نہ کہ احتجاج یا شوروغل کا موضوع۔
