عربوں کا مزاج
1984کے مدینہ کے سفر میںایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدی پڑھی، الدین فی مواجہۃ العلم پڑھی، اور الاسلام و العصر الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے۔ مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب ’’حکمۃ الدین ‘‘ پڑھی تو وہ پسند نہیں آئی۔ اس میں آپ نے الاخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔
اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے۔ جن جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانہ میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر حکمراں کے دو طبقوں میں بانٹ رکھا ہے اور دونوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔
تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے باوجود الاسلام یتحدی کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیاء الدین ملا جفجی (حلب،شام) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارے میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پربات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آ سکتا ۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قَبِّلْ يَدَهُ بِالنِّيَابَةِ عَنِّي)۔
اس سفر (1984)میں ایک ہندستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارے میں ان کے تجربات پوچھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ان کے اندر توسع کامزاج ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت کہتے ہیں۔ ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھرپور اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظرانداز کیا جائے۔
