ایک تقابل
طرابلس (لیبیا) میں 28-24 ستمبر 1990ء کوایک انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کی دعوت کے مطابق ایک سفر ہوا۔ وہاں ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اختلاف موجودہ دنیا کا ایک ناگزیر ظاہرہ ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ ہمارا اصل کام حالتِ اختلاف کو ختم کرنانہیں ہے، کیوں کہ وہ ممکن نہیں۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ وہ اختلاف کو پرامن دائرہ میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے برداشت کوکھو دیا ہے۔ اختلاف پیدا ہوتے ہی فوراً وہ جارحیت پر اتر آتے ہیں۔
میں نے کہا کہ روس اورامریکا کے درمیان اختلاف تھا۔ دونوں کے پاس انتہائی طاقتور ہتھیار موجود تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ سختی کے ساتھ اس پر قائم ہیں کہ ہر اختلاف کو میز پر طے کرنے کی کوشش کریں۔ خلیج میں عراق اور کویت کے درمیان اختلاف تھا۔ عراق کے پاس اتفاق سے کچھ طاقت آ گئی۔ اس نے فوراً کویت کے خلاف فوجی اقدام کر دیا۔ دوسری طرف اسی معاملہ میں امریکا کو عراق سے شدید ترین اختلاف ہے۔ وہ اپنی فوجیں لیے ہوئے خلیج میں کھڑا ہوا ہے۔ مگر کئی مہینے گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس نے عراق پر فوجی حملہ نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اسی مزاج نے انہیں موجودہ دنیا میں بربادکررکھا ہے۔
