ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے کہا کہ آپ کی تحریروں میں اختلاف رائے اور تنقید بہت ہوتی ہے۔ یہاں کے کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ آپ کو تنقید کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے۔ آپ کسی بھی مہینہ کے الرسالہ کو اٹھا کر دیکھیے اور ہر مضمون کو پڑھ کر پتہ کیجیے کہ اس میں اختلاف رائے والا پہلو کتنا ہے۔ آپ پائیں گے کہ کسی پرچہ میں سرے سے ایسا کوئی مضمون نہ ہوگا اور کسی میں ہوگا بھی تو صرف ایک یا دو فیصد۔
پھر میں نے کہا کہ اصل مسئلہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لوگوں کی غیر ضروری حساسیت ہے۔ صحابہ کے زمانہ سے لے کر ہر اگلے دور تک علما کے درمیان اختلاف ہوتا تھا مگر کبھی کسی نے اختلاف کو برا نہیں بتایا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابو یوسف دونوں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ دونوں نے امام ابو حنیفہ کی رایوں سے 182 معاملہ میں اختلاف کیا ہے۔ مگر اس کو کبھی کسی نے برا نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف رائے یا علمی و فکری تبصرہ قوموں کی زندگی ہے۔ اس کو اسلام میں اتنا زیادہ جگہ دی گئی ہے کہ آدم کی پیدائش کی کہانی کا ایک جزء جو بائبل میں حذف ہوگیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا۔ یہ خود اللہ تعالیٰ سے فرشتوں کا یہ کہنا تھا :أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها وَيَسْفِكُ الدِّماءَ (2:30)۔ یعنی،زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔
اس اختلاف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو کوئی سزا نہیں دی۔
