17 ستمبر 1991 ء
اسلام کے علمی مطالعہ کے سلسلہ میں بہت بڑا مسئلہ اختلافات کا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تقریباً تمام امور میں علمائے اسلام کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی عالم کے حوالے سے اپنی بات کہہ سکے۔
مثلاً ابن مسعود اور معوذتین کے مسئلہ کو لیجیے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود معوذتین کو قرآن سے خارج سمجھتے تھے وہ ابن حجر عسقلانی کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے صحیح بخاری کی شرح میں امام احمد اور امام ابن حبان کی روایت سے یہ لکھا ہے کہ ابن مسعود معوذتین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے (فتح الباري لابن حجر، جلد8، صفحہ 742)۔ اور جو لوگ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ محدث ابن حزم نے لکھا ہے کہ یہ ابن مسعود پر ایک الزام ہے اور یہ ایک موضوع قول ہے کہ ابن مسعود معوذتین کو داخل مصحف نہیں سمجھتے تھے— مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَأُمَّ الْقُرْآنِ لَمْ تَكُنْ فِي مُصْحَفِهِ فَكَذِبٌ مَوْضُوعٌ لَا يَصِحُّ(المحلی بالآثار ، جلد1 ، صفحہ32)۔ اسی طرح امام نووی لکھتے ہیں کہ معوذتین کو داخل قرآن نہ سمجھنے کے بارے میں ابن مسعود کا جو قول نقل کیا گیا ہے وہ سراسر باطل ہے — مَا نُقِلَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْفَاتِحَةِ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ بَاطِلٌ لَيْسَ بِصَحِيحٍ عَنْهُ( المجموع شرح المهذب للنووی، جلد3، صفحہ 396)۔
