ایک سفر میں فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائرپورٹ پر ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں۔ حتی کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں۔
فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نورمیسواری (Nur Misuari, b. 1939) تھے۔ ہاشم سلامات (Hashim Salamat, 1939-2003) ان کے نائب تھے۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے ملے۔ انہوں نے نورمیسواری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا (إِنْ لَمْ تُغَيِّرْ سِيَاسَتَكَ الآنَ فَالثَّوْرَةُ سَتَفْشَلُ)۔ مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگرچہ اپنے اختلاف اور علاحدگی کے لیے اصولی الفاظ بولتے ہیں، مگر اصلاً یہ قیادت کا جھگڑا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آ رہا ہے۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں۔ کام شروع کرتے ہیں۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقتاً اسلام کے لیے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا (جیسا کہ دو اصحابِ رسول ابوعبیدہ بن جراح اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماکے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے، دیکھیے زیر نظر کتاب کا مضمون:آخرت رخی سوچ)۔ مگر جب اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی پیش آتا ہے۔
