معتصبانہ طرزِ فکر

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:حُبُّكَ الشَّيءَ ‌يُعْمِي ‌وُيصِمُّ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 5130)۔یعنی کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنادیتی ہے۔

اس حدیث میں حُبّ سے مراد سادہ طور پر صرف محبت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد غلوآمیز محبت ہے۔ اس حدیث میں حُبّ کے جس غیر مطلوب نتیجے کا ذکر ہے، اس کا تعلق غلوآمیزمحبت سے ہے، نہ کہ صرف محبت سے۔ غلو آمیز محبت آدمی کے اندر جو غیر مطلوب صفت پیدا کرتی ہے، وہ وہی چیز ہے جس کو متعصبانہ فکر (biased thinking)کہا جاتا ہے۔ یہی متعصبانہ فکر ہے جو آدمی کو کسی چیز کے بارے میں اندھا اور بہرا بنادیتی ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں قوم پرستی اس کا ایک ظاہرہ ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اپنی کمیونٹی اور دوسری کمیونٹی کا کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ اپنی کمیونٹی کی غلطی سمجھ نہیں پاتے۔ ان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ میں ہر حال میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ دوں گا، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط:

My community, right or wrong

اس متعصبانہ طرز فکر کا بیک وقت دو نقصان ہے۔ ایک یہ کہ خود آدمی کے اندر ابدی طور پر منفی سوچ (negative thinking) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کو غیر جانبدارانہ انداز (impartial way)میں دیکھ سکے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ وہ خود اپنی کمیونٹی کے لیے ایک برا قائد بن جاتا ہے۔ اختلافی معاملات میں وہ اپنی کمیونٹی کو صحیح رہنمائی نہیں دے پاتا۔

متعصبانہ طرز فکر ہر حال میں ایک تباہ کن طرز فکر ہے۔ ایسا آدمی اس سے محروم ہوجاتا ہے کہ وہ دنیا میں اس صالح غذا کو لے سکے جو اس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کیا ہے اور جس کو قرآن میں رزقِ رب کہا گیا ہے۔ رزقِ رب کا حصول اس دنیا میں ربانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، لیکن اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کی سعادت صرف اس شخص کو ملتی ہے جس کے اندر مثبت سوچ پائی جائے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion