26مئی2005
پاکستان سے ایک صاحب کا ٹیلیفون آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلک کے جھگڑے بہت زیادہ ہیں۔ فلاں مسلک والے امام کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ فلاں مسلک کا آدمی مرجائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔ فلاں مسلک کے خاندان میں رشتہ نہ کرو۔ فلاں مسلک کے آدمی کے دسترخوان پر کھانا نہ کھاؤ، وغیرہ۔ انہوں نے پوچھا کہ اس معاملے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟
میں نے کہا کہ میں اس قسم کے اختلافات کو غلو سمجھتا ہوں۔ اور غلو اسلام میں سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی غلو آمیز تحریکیں انگریزی نوآبادیات کے زمانے کی دین ہیں، اس سے پہلے ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ چوں کہ مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، اس لیے مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے انگریزوں نے مختلف پہلوؤں سےتفریقی کوشش کی گئیں۔ انگریزوں کا یہ فعل اسلام دشمنی کی بنا پر نہ تھا جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ وہ اپنے دفاع کے طور پرتھا۔
میں نے کہا کہ ان اختلافات کا کوئی تعلق اسلامی شریعت سے نہیں ہے، بلکہ وہ انگریزوں کی وراثت ہے۔ آج بھی یہ جھگڑے صرف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عرب ملکوں میں ان جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔ عرب ملکوں میں اخوان المسلمین نے سیاسی جھگڑے ضرور کھڑے کیے ہیں۔ مگر جہاں تک مسلکی جھگڑوں کا تعلق ہے وہ عرب ملکوں میں موجود نہیں۔
