3مارچ 2007
2مارچ 2007کو اردو صحافت کے پندرہ صاحبان آئے۔ یہ لوگ مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی (حیدر آباد )کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ پروفیسر عبد الرحیم بھی تھے جو یو نیورسٹی میں صدر شعبہ صحافت ہیں۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان متنازعہ شخصیت بن گئے ہیں۔ زیادہ اچھا یہ تھا کہ آپ اپنے آپ کو اس سے بچاتے ہوئے کام کرتے۔
میں نے کہا کہ اختلاف اور نزاع میں فرق ہے۔ مجھ سے بعض معاملات میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مسلمانوں کے درمیان متنازعہ شخصیت ہو ں ۔ مجھ سے جن لوگوں کو اختلاف ہے، وہ صرف بعض امور میں طریقِ کار کو لے کر ہے۔ متنازعہ شخصیت بننےکے لیے ضروری ہے کہ اُس سے کسی مسئلہ عقیدے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہو، جب کہ میرے بارے میں ایسا نہیں ہے۔اگر محض اختلاف سے کوئی شخص متنازعہ شخصیت بنتا ہو تو مسلم تاریخ کی تمام شخصیتیں متنازعہ شخصیت بن جائیں گی ۔ کیوں کہ پوری مسلم تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس سےکسی نہ کسی معاملے میں اختلاف نہ کیا گیا ہو۔
