تنقید کا عمل

کبیر پندرہویں صدی کا ایک صوفی شاعر اور سنت تھا۔ اس نے اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کو حکمت و نصیحت کا پیغام دیا ہے۔اس کا ایک حکیمانہ دوہا ان الفاظ میں آیا ہے:

نندک نیرے راکھیے آنگن کٹی چھوائے                 بِن صابن، پانی بنا، نرمل کرتا سبھائے

جو ہماری نندا کرتا ہے، اس کو سب سے قریب رکھنا چاہیے وہ تو بغیر صابن اوربغیرپانی ہماری کمیوں کو بتا کر ہمارے سبھاؤ کو درست کرتاہے۔

نندا کرنا، یعنی تنقید کرنا۔تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ جس سماج میںتنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کرتا رہتا ہے۔ایک بارمیں نے ایک مغربی اسکالر سے پوچھا کہ اہلِ مغرب کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا— اختلافِ رائے (dissent) کو انسان کا مقدس حق قرار دینا۔

 اختلافِ رائے کا اظہار ہمیشہ تنقید (criticism)کی صورت میں ہوتا ہے۔ تنقید کا اصل مقصد کسی موضوع پر کھلے تبادلۂ خیال (open discussion) کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ تنقید کا مقصد یہ ہے کہ مختلف ذہن (mind)دیانت دارانہ طورپر (honestly)اپنے نتیجۂتحقیق کو بتائیں اور پھر دوسرے لوگ دیانت داری کے ساتھ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔اِس طرح کا آزادانہ تبادلۂ خیال ذہنی ارتقا (intellectual development) کا لازمی تقاضا ہے۔

اس حقیقت کوصحابی رسول ابوہریرہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ایک مومن اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے۔ اگر وہ اس میں کوئی عیب دیکھے تو وہ اس کی اصلاح کرے — الْمُؤْمِنُ مَرْآةُ أَخِيهِ، إِذَا رَأَى فِيهَا ‌عَيْبًا ‌أَصْلَحَهُ(الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 238)۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کا گروہ ایک دوسرے کو خیرخواہی کے ساتھ  برائیوں سے روکے اور اچھائی کی نصیحت کرتا رہے۔اس کی وجہ سے ہر مومن کے لیےیہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو پہچان کر درست راستے پر قائم ر ہ سکے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion