یکم فروری2001
دورِ سائنس میں جو اچھی چیزیں ظہور میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دواختلافی رائے رکھنے والے میز پر بیٹھ کر سنجیدہ تبادلۂ خیال کریں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی جاری کرنا چاہیے۔مختلف مذاہب کو ایک ثابت کرنے کے بجائے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان سنجیدہ بحث کو رواج دیا جائے۔ لوگ جذبات اور تعصّبات سے الگ ہوکر خالص علمی انداز میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ ہر ایک اپنے نقطۂ نظر کو خالص دلیل کی زبان میں بیان کرے۔ اور دوسرا بھی خالص دلیل کی زبان میں اس کا جواب دے۔ اس طرح سنجیدہ علمی بحث کے ذریعہ سچائی کو دریافت کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ سب کچھ علمی طریقہ پر ہو ، نہ کہ مناظرانہ طریقہ پر۔
