نزاع کا مسئلہ
دو فریقوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہوجائے تو اس وقت یہ موقع نہیں ہوتا ہے کہ کون صحیح ہے، اور کون غلط۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ یہ تلاش کریں کہ نزاع کو فوری طور پر ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ کیوں کہ نزاع کو ختم کرنے سے آپ کو نیا اسٹارٹنگ پوائنٹ (starting point)مل جاتا ہے، اور اگر آپ نزاع کو ختم نہ کریں تو آپ کو کوئی اسٹارٹنگ پوائنٹ نہیں ملے گا۔ آپ ہمیشہ منفی ذہن میں جیتے رہیں گے،اور نئے آغاز کے لیے کوئی سرا کبھی نہ پاسکیں گے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے 610 عیسوی میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس وجہ سے قدیم مکہ کے قریش آپ کی مخالف ہوگئے۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ کو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانا پڑا۔ اس کے باوجود اہل قریش آپ کے خلاف نزاع کے طریقے پر باقی ر ہے۔ چنانچہ 628 عیسوی میں آپ نے قریش کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر ایک معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ یک طرفہ طور پر قریش کے حق میں تھا۔اس کے باوجود آپ نے یہ معاہدہ کیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی معاملے میں جب دو نزاعی فریق بن جائیں تو دونوں میں سے کوئی فریق جج کی سیٹ پر نہیں ہوتا ہے۔ جو انصاف کی بنیاد پر اگلے فریق کو اس کا حق عطا کرے۔ اس لیے آئڈیل کی بنیاد پر نزاع کو ختم کرنا عملی طور پر لاحاصل ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر عقل مند وہ ہے، جو تاخیر کے بغیر پریکٹکل کی بنیاد پر نزاع کو ختم کردے۔ تاکہ نیا آغاز شروع ہوسکے۔
نزاع کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سبب ایگو (ego)کا ٹچ ہونا ہے،اور جب ایگو ٹچ ہوجائے تو معاملہ عقلی بنیاد پر حل نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ پریکٹکل وزڈم کی بنیاد پر حل ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حدیبیہ کے موقع پر یہ دیکھا کہ جب آئڈیل کو بنیاد بنایا جائے تو معاہدہ نہیںہوسکتا ہے، اور نزاع بدستور جاری رہے گا۔ چنانچہ آپ نے یک طرفہ طور پرقریش مکہ کی تمام شرائط کو مان کر نزاع کو ختم کردیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے جب یہ مطالبہ کیا کہ ’’ رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹایا جائے تو آپ نے یہ مطالبہ بھی مان لیا۔ آپ کا یہ عمل پریکٹکل وزڈم کی بنیاد پر نزاع کو ختم کرنے کی روشن مثال ہے۔
