اختلاف ایک رحمت
ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:اخْتِلافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر39)۔ یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف سمجھی جاتی ہے۔ لیکن معنی کے اعتبار سے وہ قوی ہے۔ اس حدیث میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے۔
اختلاف (difference)کسی گروہ کا مسئلہ نہیں، اختلاف ایک فطری امر ہے۔ انسانوں کے درمیان ہمیشہ اختلافات ہوتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے بھی اور سیکولر اعتبار سے بھی۔ کوئی سماج کبھی رائے کے اختلاف سے خالی نہیں ہوتا۔
رائے کے اختلاف کو اگر فطری درجہ میں رکھا جائے تو وہ لوگوں کے لیے ایک رحمت (blessing) ثابت ہوگا۔ صحیح یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے پر تحمل کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اختلاف کو ڈسکشن کا موضوع بنایا جائے۔ ایسا کرنے سے اختلاف لوگوں کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس سے لوگوں کی تخلیقیت (creativity)میں اضافہ ہوگا۔درست طور پر کہا جاتا ہے کہ جہاں لوگ ایک ہی انداز میں سوچیں، وہاں لوگوں کے اندر بلند فکری نہیں ہوگی:
Where everyone thinks alike, no one thinks very much
رائے کا اختلاف ہر زمانے میں امت کے اندر موجود رہا ہے۔ رائے کا اختلاف اس وقت مسئلہ بنتا ہے جب کہ کوئی گروہ اختلاف میں غلو کا طریقہ اختیار کرے۔غلو کے بغیر اختلاف ایک رحمت ہے۔ جب کہ غلو کے ساتھ اختلاف ایک فتنہ بن جاتا ہے۔ مثلاامت میں ہمیشہ عقائد کے معاملے میں اختلاف پایا جاتا رہا، اسی طرح فقہی مسائل میں بھی ہمیشہ اختلاف موجود رہا ہے۔ یہ اختلاف کبھی مسئلہ نہیں بنا۔ البتہ بعض اوقات جب کسی گروہ نے اختلاف کو غلو کے درجے تک پہنچایا تو اختلاف مسئلہ بن گیا۔
