اختلاف کے باوجودقدر دانی

1987 میں میں نے میوات کا سفر کیا۔ اس سفرکی ایک یادگار شخصیت گلپاڑہ کےحاجی دراب خاں( عمر 80 سال )کی تھی۔وہ بالکل ان پڑھ ہیں۔ اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے۔ مگر ان کے اندر ایک ایسی خصوصیت ہے جو اپنی معلومات کے مطابق اب تک میں نے کسی عالم کے اندر بھی نہیں پائی، وہ ہے  —اختلاف کے باوجودقدر دانی۔

مولانا عبدالرحیم صاحب (بڈیڈ، ضلع گڑگاؤں) اس سے پہلے گلپاڑہ کے مدرسہ میں استاد تھے ۔ وہ یہاں ساڑھے تین سال تک امام اور مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ 1969ء میں وہ یہاں سے چھوڑ کر چلے گئے ۔ دیہات کے لوگوں کو اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں میں اماموں اور مدّرسوں سے شکایت ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ گلپاڑہ کے لوگوں کو بھی ہوئی۔ انہیں میں سے ایک حاجی دراب خان بھی تھے ۔ ان کے الفاظ میں ان کی ’’اس مولوی سے لڑائی رہنے لگی ‘‘۔

 یہ لڑائی کس بات پر ہوتی تھی ۔ معمولی معمولی باتوں پر۔ مثلا ًحاجی دراب خاں نے اپنا ایک درخت کٹوایا اور اس کی لکڑی مسجد کے صحن میں رکھوادی۔ اس کی وجہ سے مسجد کا صحن تنگ ہوگیا۔ مولانا عبدالرحیم صاحب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس لکڑی کو یہاں سے ہٹاؤ۔ مگر حاجی در اب خاں نے نہیں ہٹوایا۔ آخر مولانا عبد الرحیم صاحب نے ایک روز اپنے مدرسہ کے لڑکوں کے ذریعہ تمام لکڑی کو وہاں سے نکلوا کر باہر رکھوا دیا ۔ اس پر حاجی دراب خان کا فی غصہ ہوئے ، وغیرہ۔

یہ مسجد حاجی دراب خاں کے خاندان نے بنوائی تھی ۔ مدرسہ بھی ان ہی لوگوں نے قائم کیا تھا۔ مولانا عبدالرحیم صاحب وہاں گو یا ان کے ایک ’’ملازم ‘‘ تھے ۔ ایسی حالت میں ان کی یہ جسارت بالکل نا قابل برداشت تھی ۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے حاجی دراب کی ’’ اس مولوی سے لڑائی رہتی تھی‘‘،مگر مولانا عبدالرحیم نے بتایا کہ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حاجی دراب ان کے بارے میں مخالفانہ رول ادا کریں ۔

 مولانا عبدالرحیم ایک با اصول آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ صاف گو ہیں ۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں سے کسی نہ کسی بات پر ان کی تکرار ہو جاتی تھی ۔ مثلاً وہ یہاں مسجد کے امام بھی تھے ۔ مقرر وقت پر وہ ٹھیک گھڑی کے لحاظ سے جماعت شروع کر دیتے تھے، خواہ کوئی آیا ہو یا نہ آیا ہو ۔ بعض لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار ہوتی تھی ۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لوگ ان کے خلاف ہو گئے ۔ حتی کہ انھوں نے گاؤں کی اکثریت کو اپنے موافق بنالیا اور عام رائے یہ ہو گئی کہ ان کو مدرسہ سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے آدمی کو لایا جائے ۔

مگر حاجی دراب اس تحریک کے سخت مخالف ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر چہ اس مولوی سے میری ذاتی لڑائی ہے ۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مدرسہ کے کام کے لیے وہ نہایت موزوں ہے ، اس کو ہٹانے کے بعد ایسا لائق معلم ہم کو نہیں مل سکتا، اس لیے انھوں نے اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے مولوی عبد الرحیم صاحب کی بھر پور حمایت کی۔ ذاتی شکایت کے باوجود اعتراف اور قدر دانی کی یہ صفت اتنی کم یاب ہے کہ کم از کم میں نے اپنے تجربہ میں اب تک کوئی دوسرا حاجی دراب نہیں دیکھا ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion