12اگست 1992 ء
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اجتہاد کا مزاج کھو دیا ہے۔ وہ صرف تقلید کے اوپر قائم ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عام طور پر تنقید کو برداشت نہیں کرتے۔ میں نے کہاکہ تنقید اور اختلاف رائے سے ذہنی ترقی ہوتی ہے۔ اور جہاں تنقید اور اختلاف کا ماحول ختم ہو جائے وہاں صرف ذہنی جمود باقی رہ جائے گا اور آج مسلمان پوری طرح ذہنی جمود کا شکار ہو چکے ہیں۔
Book :
