24 اگست 1993
آج دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بہت بڑی تعداد میں دہلی اور دہلی کے باہر کے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ہند و جمع تھے۔ منچ پر ان کے اکثر بڑے بڑے لیڈر موجود تھے۔ مجھے بھی تقریر کے لیے بلایا گیا تھا۔
میں نے کہا کہ زندگی کے دو طریقے ہیں:الگاؤ واد اور ملاپ واد ۔ اسلام کا طریقہ ملاپ واد کا ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے :وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128) ۔یعنی، اور صلح بہتر ہے ۔اور فرمایا :وَاللهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ (10:25)۔یعنی، اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔
میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مارکاٹ کی کتاب ہے، وہ قرآن سے انجان ہیں۔ وہ اپنے گیان کو قرآن کے آئینہ میں دیکھ رہے ہیں۔ مسٹر نراد چودھری (مقیم لندن) کا انٹرویو ٹائمس آف انڈیا اگست 1993 میں چھپا ہے۔ وہ بجا طور پر کہتے ہیں قرآن کے ٹکسٹ میں مجھ کو کوئی بے ٹھیک بات نہیں ملی۔ جو بے ٹھیک باتیں ہیں وہ سب کمنٹری میں ہیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) کمنٹری کی بنیاد پرلکھی ہے ، نہ کہ قرآن کے ٹیکسٹ کی بنیاد پر۔
میں نے کہا کہ کمنٹری ہر آدمی کا اپنا انٹر پریٹیشن ہوتا ہے ۔ اور انٹر پریٹیشن میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ گیتا کے متعلق کچھ ہندو شارحین کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کی کتاب ہے۔ مگر اسی گیتا کو مہاتما گاندھی نے امن کی کتاب بتایا ہے۔
