30جولائی1998
ایکصاحب نے ایک بات یہ کہی کہ آپ دوسرے اکابر سے کٹ کر اپنا مشن چلا رہے ہیں، آپ کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ آپ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ میں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مل کر کام کرنا چاہا اور آج بھی مل کر ہی کام کرنا چاہتا ہوں مگر اس سلسلہ میں میرے تجربات بے حد تلخ ہیں۔
اس سلسلہ میں ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے ایک معروف عالم دینکے ایک قریبی ساتھی سے عین اس موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ کو مذکورہ عالم دینکے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں مگر اس سلسلہ میں میری ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ مجھ کو مذکورہ عالم دینسے اختلاف رائے پیش آئے گا۔ ایسے موقع پر میں منافق نہیں بن سکتا۔ میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ مذکورہ عالم دین اگر میرے اظہارِ اختلاف کو برداشت کرسکیں تو میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے جواب میں مذکورہ عالم دین کے ساتھی نے کہا کہ جب آپ کو حضرت مولانا سے اختلاف ہو تو آپ اس کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو متہم کرلیا کریں۔
If you find yourself in disagreement with the Hazrat Maulana, do not voice it. Instead, take the blame upon yourself.
میں نے کہا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ عام انسان تو درکنار خود اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس کی مخلوق پیشگی طور پر اپنے آپ کو متہم کرلیا کرے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں کو ایک اشکال پیش آیا تو انہوں نے کہا:أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها وَيَسْفِكُ الدِّماءَ (2:30)۔ یعنی، کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔
فرشتوں نے ایسا نہیں کیا کہ اپنے آپ کو متہم کرکے چپ ہوجائیں۔
