30ستمبر1996
مکہ سے نکلنے والا عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (13-2ربیع الاولا1417ھ) کا صفحہ2میرے سامنے ہے۔ اس میں ایک مضمون السید علی احمد الصوری کے قلم سے ہے۔ اس کا عنوان ہے :السَّبِيلُ إِلَى الخُرُوجِ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ ۔ یعنی ہم جس حالت میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے نکلنے کا راستہ۔ مضمون نگار کے نزدیک یہ راستہ توحید صفوف ہے۔ یعنی مسلمانوں کے درمیان اتفاق واتحاد۔
یہ بات کم از کم سوسال سے کہی جارہی ہے۔ مگر آج تک مسلمانوں میں اتحاد قائم نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے اتحاد، اتحاد تو کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتاپاتے کہ اتحاد کس طرح قائم رہیں۔ تمام لکھنے اور بولنے والے اتحاد کا راز یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اختلاف کرنا چھوڑدیں۔ وہ اختلاف کو ختم کرکے اتحاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
مگر یہ ایک ممکن چیز کو ناممکن تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ اختلاف تو خود فطرت میں شامل ہے، پھر اس کو کیوں کر ختم کیاجاسکتا ہے۔ امت سے کہنے کی اصل بات یہ تھی کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا سیکھو۔ مگر رہنمایانِ امت لوگوں کو یہ بات بتانہ سکے۔ پوری کی پوری ملت شعوری طور پر اتحاد کے اس راز سے بے خبر ہے۔ پھر اس کے اندر اتحاد آئے تو کس طرح آئے۔
