3   2مئی 1991

قرآن میں ہے کہ بچہ والی عورتیں اپنے بچوں کو دو برس کامل دودھ پلائیں (2:233)۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے کہ ماں کا اپنے بچہ کو دودھ چھڑانا دو برس میں ہوتا ہے (31:14)۔ اسی طرح حدیث میں ہے :لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الحَوْلَيْنِ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4364)۔ ر ضاعت صرف وہ ہے جو دو سال میں ہو۔

قرآن و حدیث میں دو سال کی واضح صراحت کی بنا پر جمہور کے نز دیک رضاعت کی مدت دو سال ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ اس کی مدت ڈھائی سال بتاتے ہیں، اور امام زفر نے اس کی مدت تین سال بتائی ہے — قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ :ثَلَاثُونَ شَهْرًا، وَقَالَ زُفَرُ:ثَلَاثُ سِنِينَ (التفسير المظهرى، جلد 1 ، صفحہ323)۔

قدما کے یہاں اس طرح کا اختلافِ رائے کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کے اختلافات کی بنیاد پر وہ لوگ ایک دوسرے کو مطعون نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ وہ تاویل سے کام لیتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی شخص اس طرح اپنی مختلف رائے ظاہر کرے تو فوراً اس کی تنقیص و تفسیق کی مہم شروع کر دی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدما زندہ لوگ تھے اور آج کل کے لکھنے اور بولنے والے مردہ لوگ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion