6 جولائی 1983

امام احمد بن حنبل خون نکلنے کو ناقض وضو سمجھتے تھے۔ دوسری طرف امام مالک اور سعید بن مسیب کا مسلک تھا کہ ایک شخص وضو کرے اور کسی وجہ سے اس کے بعد اس کے جسم سے خون نکل آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، وہ اسی سابقہ وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس اختلاف کی روشنی میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ ’’ اگر وضو کے بعد امام کے جسم سے خون نکل آئے اور وہ دوبارہ وضو کے بغیر نماز پڑھائے تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔‘‘ امام احمد بن حنبل نے جواب دیا :میں مالک بن انس اور سعید بن مسیب کی اقتدامیں کیسے نمازادا نہ کروں(المغنی لابن قدامة، جلد 1 ،صفحہ 247)۔

اسی طرح امام ابو یوسف خون نکلنے کی صورت میں وضو کے جاتے رہنے کے قائل تھے۔ ان کی موجودگی میں ہارون رشید نے نماز پڑھائی جب کہ اس نے وضو کے بعد پچھنا لگوایا تھا۔ مگر امام ابویوسف نے اعتراض نہیں کیا۔ انھوں نے ہارون رشید کے پیچھے نماز ادا کر لی اور پھر اس کو نہیں دہرایا۔

اس سے اجتماعیت کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ’’امام ‘‘ سے اگر ایسا فعل صادر ہو جو مقتدی کے نزدیک نماز کوفاسد کر دینے والاہو، تب بھی مقتدیوں کو اپنی نیت کے مطابق اس کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہیے ۔ حتی کہ بعد کو اپنی نماز کو دہرانا بھی نہیں چاہیے۔ کیوں کہ نماز کا دہرانا بھی غیرضروری خلفشار کا باعث ہوسکتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion