سوال و جواب
سوال
اگر انتشار سے ملّت کو نقصان ہورہا ہے تو اسلام میں اس کا کیا حل ہے؟
جواب
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو تفریق اور انتشار پایا جاتا ہے ، اُس کا سبب میرے نزدیک صرف ایک ہے اور وہ ہے ، اختلاف اور تنقید پر غیر ضروری حسّاسیت۔اس مسئلہ کا حل اختلاف اور تنقید کوختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اختلاف اور تنقید کے بارے میں اپنی غیر فطری حساسیت کو ختم کرنا ہے۔ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو برداشت کرنے سے ہوتا ہے ، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔ کیوں کہ اختلافات کا مٹنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
سوال
میرے بھائی صاحب نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آج کل کے مسلمانوں کو کس قسم کی رہنمائی کی ضرورت ہے ؟ میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو حقیقت پسند بنایا جائے۔مگر وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ براہ کرم آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اس مسئلہ کو واضح کریں۔ (صوفیہ حیدر، بتیا ، بہار)
جواب
آپ نے مذکورہ سوال کا بالکل درست جواب دیا۔ رہنمائی کے سلسلہ میں صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی نظری یا تاریخی باتوں کو جانے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ زمانی حالات کیا ہیں اور زمانی حالات کے اعتبار سے لوگوں کو کس قسم کی رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ایک سبق آموزحوالہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ اور دوسرے کئی قدیم علما نے خفین پر مسح کرنا عقیدہ کے مسئلہ کے طور پر ذکر کیا ہے(الفقہ الاکبر،صفحہ 45)۔حالاں کہ وہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے زمانہ میں کچھ لوگ خفین پر مسح کرنے میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے ، اس لیے انھوں نے اس کی اہمیت پر زور دینے کے لیے یہ فتویٰ دیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارے میں بھی یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان کے اندر کیا کمی آگئی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حقیقت پسندانہ طرز فکر (realistic approach) ان کے اندر تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر جذباتی انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ وہ اکثر جذباتی فیصلہ کے تحت اقدام کرتے ہیں۔ حالات کا گہرا تجزیہ اور تعمیری منصوبہ بندی کا مزاج ان میں باقی نہیں رہا۔ یہی ان کے موجودہ مسائل کا اصل سبب ہے۔ ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لیے جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ یقینی طور پر یہی ہے کہ ان کے اس مزاج کی تصحیح کی جائے۔ ان کے اندر سے جذباتیت کا مزاج ختم کیا جائے۔ اس کے بجائے ان کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔
اس مزاج کاایک اور تباہ کن نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان عددی اعتبار سے بہت بڑی طاقت ہیں۔ مگر اپنی بے اتحادی کی بنا پر وہ صرف ایک کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ اس بےاتحادی کا واحد سبب یہی جذباتیت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف پر بھڑک اٹھتے ہیں۔وہ اختلاف کے وقت اپنا اعتدال کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اس شخص کے دشمن بن جاتے ہیں جو کوئی ایسی بات کہے جس سے وہ اختلاف رکھتے ہوں۔
فرق اور اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ وہ ہر سماج میں اور ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق اور اختلاف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ صحابۂ کرام کے زمانہ میں بھی ان کے اندر بہت سے اختلاف تھے۔ موجودہ دنیا میں اتحاد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا ، کیوں کہ غیر اختلافی سماج تو دنیا میں کبھی بنایا ہی نہیں جاسکتا۔
