30 جولائی 1983

محمد بن اسحاق تابعی (85-150ھ) قدیم ترین سیرت نگار ہیں۔ ان کی اصل کتاب اگرچہ اب موجود نہیں، مگر ابن ہشام کی موجودہ سیرت میں ان کی پوری کتاب شامل ہے۔

ابن اسحاق علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ وہ امام مالک کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے اپنی معلومات کے مطابق امام مالک کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ وہ قبیلہ ذی اصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔ مگر خود امام مالک اپنے آپ کو حمیر کی شاخ اصبح میں سے خیال کرتے تھے۔ اس اختلاف کی بنا پر دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔

امام مالک نے جب حدیث کی کتاب موطا تیار کی تو کہا جاتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ، اس کا معالج میں ہوں — اِيتُونِي بِهِ فَأَنَا بَيْطَارُهُ۔ یہ بات امام مالک تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایتیں نقل کرتا ہے— هَذَا دَجَّالٌ مِنَ الدَّجَّالِينَ، يَرْوِي عَنِ الْيَهُودِ) الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 382۔ ابن حبان نے کتاب الثقات میں لکھا ہے کہ محدثین کو محمد بن اسحاق پر یہ اعتراض تھا کہ خیبر، قریظہ، نضیر کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے، جن کے آباء و اجداد مسلمان ہو گئے تھے۔ اور چونکہ یہ باتیں انہوں نے یہود سے سنی ہوں گی ، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا( الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 382-383)۔

امام مالک نے ابن اسحاق کی تردید میں جو الفاظ کہے، وہ تنقید سے بھی آگے کے ہیں۔ مگر اتنی سخت تنقید کے باوجود کسی نے اس کو برا نہیں سمجھا۔ دور اول میں جب مسلمان زندہ تھے تو اس قسم کا اختلاف رائے یا تنقیدیں عام تھیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہ بالکل مردہ ہو چکے ہیں، ان کے اندر زندگی کی قسم کی کوئی چیز باقی نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion