2مئی 2012
انسانوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے ۔کچھ لوگ جذباتی مزاج کے ہوتے ہیں ، اور کچھ لوگ متحمل مزاج ۔ اِ س فرق کا ایک تجربہ ہمارے مشن میں ہوا ۔ لکھنؤ میں ہمارے مشن سے وابستہ ایک گروپ ہمارے یہاں کے شائع شدہ لٹریچر کو لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا ۔ اِس پر ایک دینی ادارہ کےذمہ دار سے ان کا اختلاف ہوا۔ چنانچہ ادارے کے ذمہ دار اور ان کے درمیان گفتگو ہوئی۔ دورانِ گفتگو لٹریچر تقسیم کرنے والے ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے گرد جو لوگ جمع ہیں، وہ منافق قسم کے لوگ ہیں ۔
میرے نزیک یہ ایک جذباتی اور پرسنل ریمارک ہے ، وہ کوئی علمی تبصرہ نہیں ۔دوسری طرف ساؤتھ انڈیا میں موجود ہمارے مشن سے وابستہ دوسرے گروپ کا ان کے ادارے سے اختلاف ہوا۔ اس وقت انھوں نے اپنے ادارے سے جواب میں صرف ایک بات کہی ، وہ یہ کہ ہم کو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر درکار ہے ۔ آپ اگر سی پی ایس (نئی دہلی ) کے سوا کوئی دوسرا لٹریچر دے دیں تو ہم اُسی کو استعمال کریں گے اور سی پی ایس کے لٹریچر کو چھوڑ دیں گے۔
اختلاف ایک فطری امر ہے ، لیکن اختلاف کے وقت آدمی کو چاہیے کہ وہ علمی اسلوب میں اظہار خیال کرے۔ پرسنل ریمارک دینے سے وہ سختی کے ساتھ پر ہیز کرے۔
