21 نومبر 1993کو عصر کی نماز گورنمنٹ کالونی(باندرہ، بمبئی) کی مسجد غوثیہ میں پڑھی۔ یہ ہائی وے کے عین کنارے ہے۔ نہایت وسیع اور خوبصورت مسجد ہے۔1974ء میں جب کہ جناب عبدالرحمن انتولے مہاراشٹر کے ہاؤسنگ منسٹر تھے، انہوں نے اس مسجد کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ کافی نمازی جماعت میں موجود تھے۔ میں نے سوچا کہ پنج وقتہ نماز اور ہفتہ وار جمعہ کی نماز کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی نعمت اہل اسلام کو عطا کی ہے۔ اس طرح ہر روز ہر علاقہ کے مسلمان روحانی مرکز کے ماحول میں ملتے ہیں۔ اس سے جو اجتماعی فائدے ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسجدوں کی تعداد ہزار گنا بڑھ گئی ہے۔ مگر مسجد کا عملی فائدہ اتنا ہی کم ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ نااہل لوگ ہر مسجد میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ مسجد کو اعتقادی اختلاف، سیاسی نزاعات، حتیٰ کہ متشدانہ تحریکوں کا اڈہ بنا دیتے ہیں۔ یہ اللہ کی مسجدوں کا غلط استعمال ہے۔ اس غلط استعمال نے مسلم آبادیوں کو مسجد کے حقیقی دینی فائدے سے محروم کر دیا ہے۔
Book :
