لندن کے سفر (1992)میں ماہنامہ صراط مستقیم کے مدیر محترم نے ایک انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایک سے اختلاف ہے اور آپ دوسری جماعتوں سے کٹ کر اپنا ایک نیا دین پیش کر رہے ہں۔ میں نے کہا کہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اساسیات میں اختلاف، اور دوسرا فروع میں اختلاف۔ میرا اساسیات میں کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً تمام لوگ رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتے ہیں تو میں بھی رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتا ہوں۔ میرا جو کچھ اختلاف ہے وہ فروعات میں ہے اور فروعات میں اختلاف صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہا اور علما کے درمیان ہمیشہ رہا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ غیر ضروری حساسیت کا ہے۔ لوگ غیر ضروری طور پر اختلاف کے معاملہ میں حساس ہوگئے ہیں۔ اس بنا پر وہ فروع میں اختلاف کو وہ درجہ دینے لگے ہیں جو اساسیات میں اختلاف کا درجہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی یہی غیرضروری حساسیت ہے جس نے مسئلہ پیدا کیا ہے، نہ کہ نفس اختلاف نے۔
Book :
