منفی جذبات کی قربانی
دین کی راہ میں قربانی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ قربانی کے بغیر دین کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔یہ صرف دین کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ سماج کا کوئی بھی تعمیری کام قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ جتنی بڑی قربانی اتنا ہی بڑا کام۔ قربانی سے عام طور پرعید الاضحی کے موقع پر جانوروں کا ذبح کرنا مراد لیا جاتا ہے۔ قربانی کی ایک قسم وہ ہے، جب کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں مال دینا پڑے۔اسی طرح قربانی کی ایک قسم وہ ہے، جب کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں جسمانی مصیبت اٹھانی پڑے۔ یہ قربانی کی صورتیں ہیں۔ لیکن دین میں سب سے اعلیٰ قربانی وہ ہے، جب کہ آدمی کو اپنے منفی جذبات پر روک لگانا پڑے۔
بعض اوقات اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنے منفی جذبات پر روک لگا کر اس کی قربانی پیش کی جائے۔ سماج میں رہتے ہوئے کسی کے ساتھ کوئی اختلاف ہوجائے، کسی بات سےاس کی انا کو چوٹ لگے، اس کے باوجود اللہ کی راہ میں اس کی استقامت پر فرق نہ آئے۔ اس کی بڑائی کا جذبہ مجروح ہو مگر وہ کسی شکایت کے بغیر اس کوبخوشی برداشت کرلے۔ اللہ کی راہ میں اس کو اپنی خواہشات کو دبانا پڑے مگر وہ اس کو رضامندی کے ساتھ گوارا کرلے۔
قربانی کی یہ قسم ایک غیر معمولی قربانی ہے۔ ایسی قربانی کو جھیلنا، بلاشبہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ لیکن کوئی بندہ اللہ کی راہ میں جب اپنی رضامندی سے ایسی قربانی کو برداشت کرے، تو اس پر اس کو بلاشبہ اجر عظیم عطا ہوگا۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہاللہ کے نزدیک کسی گھونٹ کا ثواب اس غصہ کے گھونٹ سے زیادہ نہیں، جسے بندہ اللہ کی رضا کے لیے پی جائے (سنن ابن ماجہ،حديث نمبر 4189)۔
ایسی قربانی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کہ اللہ کی راہ میں آدمی کو اپنا ایک رول ادا کرنا ہو۔ لیکن یہ قربانی دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور ماڈسٹی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ سادہ زندگی پر راضی ہوجائے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسے لوگ موجود ہیں، اور ایسے لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی ہے۔
