16فروری2003
شیخ مصطفیٰ احمد الزرقاء حلب میں1904میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات2002 میں سعودی عرب میں ہوئی۔ ان کی خاص صفت یہ تھی کہ ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ وہ عربی کے علاوہ جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔ انہوں نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔ فقہ کے بارے میں ان کی معلومات بہت وسیع تھیں۔ ان کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے:
1960میں شام کی راجدھانی دمشق میں ’’فقہ اسلامی ہفتہ‘‘ منعقد کیا گیا۔ مسلم فقہا اور علمائے دینکی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ان میں شیخ مصطفیٰ الزرقاء، شیخ محمد ابوزہرہ اور ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی بھی تھے۔ ایک عصری فقہی مسئلہ میںشیخ زرقاء اور شیخ ابوزہرہ کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ مسئلہ انشورنس (بیمہ )کا تھا۔ دونوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے مگر دونوں میں اتفاق نہ ہوسکا۔
ڈاکٹر السباعی سےدونوں کے اختلاف رائے کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا۔ استاذ ابوزہرہ فقہ کا کتب خانہ ہیں اور استاذ زرقاء کو فقہ میں ملکہ حاصل ہے۔(ترجمان دارالعلوم، فروری2003، صفحہ43)
