استاد، شاگرد
ہندستانی صحافی اور مصنف مسٹر پربھاش جوشی (وفات 2009) اندور کے سفر (مئی 1993) میں میرے ساتھ تھے۔ دوران سفر انھوں نے کئی سبق آموز واقعات بیان کیے۔ ایک واقعہ یہ تھا کہ سمپور نانند جی(وفات 1969) اچاریہ نریندر دیو (وفات 1956)کے شاگرد تھے۔ 1955ء میں سمپور نانند یو پی کے چیف منسٹر تھے۔ اس وقت سمپورنانند کا تعلق کانگرس سے تھا اور اچاریہ نریندر دیوکا پرجا سوشلسٹ پارٹی سے جو کانگرس کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کر رہی تھی۔ لکھنؤ میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ اس کا پولیٹیکل رزولیوشن اگلے دن پیش ہونے والا تھا۔ اور اس کا ڈرافٹ اچاریہ نریندر دیو کو تیار کرنا تھا۔
عین اس وقت اچاریہ نریندر دیو بیمار پڑ گئے۔ سمپوز نانند رات کے وقت اپنے گرو کو دیکھنے کے لیے آئے۔ اچاریہ نریندر دیو نے ان سے کہا کہ دیکھو، کل مجھے اپنی پارٹی کے اجلاس میں پولیٹیکل رزولیوشن پیش کرنا ہے مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں اس کو لکھ نہیں سکا۔ تم اس رزولیوشن کا ڈرافٹ تیار کر دو۔ سمپور نانند نے تعجب کے ساتھ کہا کہ میں اور آپ کا پولیٹیکل رزولیوشن۔ کیوں کہ یہ رزولیوشن اسی کانگرسی حکومت کے خلاف لکھنا تھا جس کے سمپورنانند چیف منسٹر تھے۔ اچاریہ نریندر دیو نے کہا کہ ہاں، تم ہی اسے لکھو۔ سمپورنانند نے کہا کہ جب آپ کہہ رہے ہیں تو بہرحال مجھے اس کو لکھنا ہو گا۔
سمپورنانند اپنی سرکاری رہائش گاہ میں واپس آئے اور رات بھر جاگ کر پرجا سوشلسٹ پارٹی کا پولیٹیکل رزولیوشن تیار کیا۔ اگلی صبح کو انھوں نے یہ ڈرافٹ اچاریہ نریندر دیو کے پاس بھیج دیا۔
اگلی رات کو سمپور نانند دوبارہ اپنے استاد کی عیادت کے لیے گئے۔ بات چیت کے دوران انھوں نے اچاریہ نریندر دیو سے پوچھا کہ اس رزولیوشن کا کیا ہوا۔ اچاریہ جی نے کہا کہ وہ پارٹی کے اجلاس میں پیش ہو کر پاس بھی ہو گیا۔ سمپورنانند نے کہا کہ آپ نے اسے دیکھ لیا تھا۔ اچاریہ نریندر دیو نے کہا کہ جس چیز کو تم نے لکھا ہو اس کو مجھے دیکھنے کی کیا ضرورت۔ میں نے تو اسے پڑھے بغیر ہی فوراً آگے بڑھا دیا تھا۔ یہ رزولیوشن اگرچہ خود سمپور نانند سرکار کے خلاف تھا مگر اس کا ڈرافٹ اتنے اچھے انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ پرجا سوشلسٹ پارٹی کے لوگوں کو شبہ تک نہیں ہوا کہ اس کو اچاریہ نریندر دیو کے سوا کسی اور نے لکھا ہو گا۔
