اختلاف کو مسئلہ نہ بنانا
دو اصحابِ رسول کے درمیان اختلاف کا ایک واقعہ مختلف کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں :سَمِعْتُ طَارِقًا يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ:كَانَ بَيْنَ خَالِدٍ وَسَعْدٍ كَلَامٌ، فَذَهَبَ رَجُلٌ يَقَعَ فِي خَالِدٍ عِنْدَ سَعْدٍ ، فَقَالَ:مَهْ إِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (حلیۃ الاولیاء ،جلد1، صفحہ94)۔ یعنی طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کسی مسئلے پر کچھ تکرار ہوگئی۔ اس کے بعد ایک آدمی نے سعد کے پاس خالد کی برائی کی۔ تو سعد نے کہا:ٹھہرو، جو ہمارے درمیان ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔
اختلاف ایک امر فطری ہے۔ لیکن اختلاف کو اسی مسئلے تک محدود رکھنا چاہیے، جو واقعۃً دونوں فریق کے درمیان ہے۔ نزاعی مسئلہ میں دوسرے غیر نزاعی معاملے کو شامل کرنا، ایک ایسی بات ہے، جو غیر اخلاقی ہے، اور غیر شرعی بھی۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان اگر کوئی نزاع پیدا ہو، تو یا تو اس کو نظر انداز کردیا جائے، اور مسئلے کو مسئلہ بننے سے پہلے ختم کردیا جائے۔ اور اگر ایسا نہ ہو، تو نزاع کو متعلق مسئلے کی حد تک محدود رکھا جائے۔ کسی حال میں اس کو باہر نہ لے جایا جائے۔
کوئی نزاع اس وقت بڑھتا ہے، جب کہ اس کو نزاع کی حدسے باہر تک وسیع کیا جائے۔ اگر نزاع کو سختی کے ساتھ اصل نزاعی مسئلے تک محدود رکھا جائے، اور گفتگو کو اخلاقی حدود کا پابند رکھا جائے، تو نزاع غیر مطلوب حد تک وسیع نہ ہوگی۔ مثلا ًمسئلہ لین دین کا ہو، اور اس کو لے کر یہ کہا جائے کہ تمھارا تو پورا خاندان لین دین میں ناقابلِ اعتبار ہے۔
منافق کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ مسئلے کو مسئلے کی حد تک نہیں رکھتا ، بلکہ مسئلے کو غیر متعلق باتوں تک لے جاتا ہے (إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 34۔ اس بنا پر مسئلہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ نئے نئے نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ مسئلہ پھیل کر غیر متعلق بحثوں تک پہنچ جاتا ہے۔
