20 ستمبر 1989
جھینگا مچھلی کو عربی میں اِربیان یا دود کہتے ہیں ۔کسی نادان نے مفتی صاحبان سے فتوی پوچھاکہ جھینگا حرام ہے یا حلال ۔مفتی کو کہنا چاہیے تھا کہ اس قسم کے سوال نہ کرو جب قرآن میں کہہ دیاگیا ہے :أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعامُهُ (5:96)۔یعنی، تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا۔ایسی حالت میں اس قسم کا سوال غیر ضروری ہے۔ مگر مفتی صاحبان نے اس نادانی پر یہ اضافہ کیا کہ فور ا ً اس کے حلال وحرام کافتوی دینے لگے۔
بعد کے کچھ علما نے دیکھا کہ اس معاملہ میں اصحاب فقہ کے درمیان اختلاف ہے تو انھوں نے تیسری نادانی کی ۔ انھوں نے کہا کہ چوں کہ جھینگا کچھ علما کے نزدیک حرام ہے، اور کچھ دوسرے علما اس کو حلال بتاتے ہیں ، کیوں کہ اس کو مچھلی کہا جاتا ہے ،اس لیے احتیاط یہ کہ اس کو نہ کھایا جائے — الدَّوْدُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ جِهينْگا، حَرَامٌ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ:حَلَالٌ، لِأَ نَّهُ يُسَمَّى بِاسْمِ السَّمَكِ، فَالِاحْتِيَاطُ أَنْ لَا يُؤْكَلَ(حاشیۃ جلالین، المائدۃ، آیت 96)۔
فقہ اورفتاوی کی کتابوں میں اس قسم کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگروہ سب کے سب انتہائی حد تک نامناسب اور بے معنی۔ جن چیزوں کو خدا اور رسول نے حرام نہ کہا ہو، ان کو حرام کہنا ایسی جسارت ہے جس کے لیے دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ صحابہ وتابعین کے زمانہ میں اس طرح حرام وحلال کی بحثیں نہیں کی جاتی تھیں۔ بعد کے علما ہر معاملہ میں حرام وحلال کی بحثیں کرنے لگے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے۔
