تاثرات و تجربات
20 جنوری1983
ایک صاحب نے کہا کہ دین میں اتنا زیادہ اختلاف ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ میں نے کہا کہ کس قسم کا اختلاف ۔ انھوں نے کہا مثلاً ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ خدا کے لیے واحد کا صیغہ ہی استعمال کرنا چاہیے۔ اگر جمع کا صیغہ استعمال کیا تو جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یعنی خدا رزق دیتا ہے، کہنا چاہیے، نہ کہ خدا رزق دیتے ہیں۔ اسی طرح کی عجیب عجیب باتیں۔
میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ جوشخص آپ سے اس قسم کی بات کہے ، اس سے پوچھیے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ قرآن میں کہاں لکھی ہے۔ اگر وہ قرآن سے اپنی بات کا ثبوت دے تو مانیے ورنہ مت مانیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ شخص کہے کہ قرآن میں سب بات کہاں ہے۔ تو آپ کہیے کہ پھر حدیث سے ثبوت دو۔اور اگر وہ کہے کہ حدیث میں سب بات کہاں ہے تو اس سے کہیے کہ جو بات نہ قرآن میں ہو اور نہ حدیث میں تو ایسی بات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں۔
