علم کی دوقسمیں
علم کی دو قسمیں ہیں — ایک وہ علم جس کا تعلق انسانی فکر اور انسانی زندگی سے ہوتا ہے۔ ایسے علم کو اصطلاح میں علمِ انسانی (humanities) کہا جاتا ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جس کا تعلق مادی شعبہ سے ہے۔ ایسے علوم کو سائنسی علوم کہاجاتا ہے۔ دونوں قسم کے علم کے مطالعے کے طریقے الگ الگ ہیں۔ ایک علم کے طریقے کو دوسرے علم کے معاملے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
مثلاً سائنسی علوم کی بنیاد ریاضیات (mathematics) پر ہے۔ ایسے علوم میں قطعی استدلال یا ناقابلِ انکار استدلال ممکن ہوتا ہے۔ ان کو دو اور دوچار کی طرح ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اِس لیے سائنسی علوم میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔
سائنسی علوم میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی موضوع پر مختلف اہلِ علم کا اتفاقِ رائے حاصل کرلیا جائے۔ مگر علمِ انسانی (humanities) میں اِس قسم کا ریاضیاتی استدلال ممکن نہیں۔ اِس لیے علمِ انسانی کے معاملے میں لازمی اتفاقِ رائے بھی ممکن نہیں۔
دونوں قسم کے علوم میں اِس فرق سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جو شخص علمِ انسانی یا مذہب کے معاملے میں یقین کا درجہ حاصل کرنا چاہے، اُس کو یہ توقع نہیں رکھنا چاہیے کہ یہاں سائنسی علوم کی مانند ریاضیاتی استدلال ممکن ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی علوم کا معاملہ ففٹی ففٹی کے اصول پر مبنی ہے۔ پچاس فی صد استدلال (reasoning) اور پچاس فی صد وجدان (intuition)۔
پہلے جزء کا تعلق معلومات (information) سے ہے، اور دوسرا جزء معرفت یا حقیقت شناسی (realization of truth) سے تعلق رکھتا ہے۔ جو آدمی صرف معلومات کو جانتا ہو، مگر اس کے اندر حقیقت شناسی کی صلاحیت موجود نہ ہو، وہ ہمیشہ ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا رہے گا، وہ کبھی سچائی تک پہنچ نہ سکے گا۔
