2ستمبر2005

دارالعلوم دیوبند کے پڑھے ہوئے دو عالم ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ الرسالہ پڑھتے ہیں۔ آپ کی اکثر باتوں سے ہم کو اتفاق ہے البتہ کچھ باتوں میں اختلاف ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اختلاف توہر ایک سے ہوسکتا ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نےامام مالک کا یہ قول دہرایا:كُلُّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُتْرَكُ إِلَّا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد8، صفحہ93)

میں نے کہا کہ اس موقع کے لیے آپ کا یہ حوالہ درست نہیں۔ امام مالک نے یہ بات جزئیات شرع کے لیے کہی ہے، ان کی یہ بات کلیات شرع کے لیے نہیں تھی۔ اور اگر آپ الرسالہ پابندی سے پڑھتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم جزئیاتی مسائل کو اپنا موضوع نہیں بناتے۔ ہم صرف اساسی مسائل دین کو اپنا موضوع بناتے ہیں اور اساسی مسائل دین میں اختلاف کا کوئی سوال نہیں۔

میں نے کہا کہ ایک بے حقیقی اختلاف اور دوسرا غلط فہمی کی بناپر اختلاف۔ الرسالہ سے کسی کو حقیقی بنیاد پر اختلاف نہیں ہوسکتا۔ البتہ غلط فہمی کی بنیاد پر اختلاف ہوسکتا ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ آپ صاحب تحریرسے رجوع کرکے اس معاملے کی وضاحت معلوم کرلیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion