سینیگال کے سفر( 1990) میںایک بار ہوٹل کے لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھا کہ کچھ افریقی مقامی زبان میں بات کر رہے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل کے باہر نکلا تو جھاڑی میں ایک بلی تھی۔ اس نے ’’میاؤں میاؤں‘‘ کی آواز نکالی۔ اچانک خیال آیا کہ جانور تمام دنیا میں ایک ہی انداز پر بولتے ہیں۔ کوئی جانور جس طرح ہندوستان میں بولتا ہے، ٹھیک اسی طرح وہ یورپ اور افریقہ میں بھی بولتا ہے۔ مگر انسان کی بولیاں الگ الگ ہیں۔ حتی کہ دنیا بھر میں ان کی کئی ہزار بولیاں ہو گئی ہیں۔

پھر خیال آیا کہ یہ انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک پہلو ہے۔ جانوروں کا کوئی امتحان نہیں۔ اس بنا پر ان کی ہر نوع کے لیے ایک ہی بولی مقرر کردی گئی۔ مگر انسان اس امتحانی میزان پر کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ارادے سے متحد ہو۔ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثبوت دے۔ جانوروں سے امتحان مطلوب نہ تھا، اس لیے انہیں ازاول تاآخر حالتِ اتحاد میں رکھا گیا۔ اس کے برعکس انسان سے امتحان مطلوب تھا۔ اس لیے انہیں حالت اختلاف میں ڈال دیا گیا اور پھر کہا گیا کہ تم اپنے اختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion