پونے کے سفر ( 1991) میں ایک شام کو جناب عبدالصمد صاحب کی رہائش گاہ کے سامنے کھلی زمین پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے پڑھے لکھے لوگ جمع ہوئے۔ اس اجتماع میں ایک گھنٹہ کی تقریر میں میں نے بتایا کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے۔ اور اتحاد پیدا ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا مزاج پیدا ہو جائے۔
اسی سفر کے دوران ایک مجلس میں حدیث رسول، صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 1768) — یعنی نیک اور فاجر ہر ایک کے پیچھے نماز پڑھو— کی تشریح کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برے لوگوں کو لا کر امام کی جگہ کھڑا کر دو۔ اس حدیث کا خطاب حقیقتاً امام کی طرف نہیں ہے۔ بلکہ مقتدیوں کی طرف ہے۔ یعنی مسجد میں کسی کو امام بنا دیا گیا۔ اب ایک شخص کے اندر خیال پیدا ہوا کہ امام کے اندر تو فلاں خرابی ہے۔ تو جس شخص یا جن لوگوں کے دل میں اس طرح کا خیال آئے انھیں اپنے اس خیال کے پیچھے نہیں دوڑنا چاہیے بلکہ اس کو نظرانداز کر کے امام کے پیچھے نماز پڑھتے رہنا چاہیے۔
