ایک بڑے سائنسی ادارہ ایم آئی ٹی کے زیر انتظام پونے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو 24 نومبر سے یکم دسمبر1996ء تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کا نام ورلڈ فلاسفرس میٹ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھرم ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پرامن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف(mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام(mutual respect) میں ہے۔
Book :
