ترکِ تعلق نہیں

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:

 أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 13354)۔ یعنی انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو، ایک دوسرے کی برائی نہ کرو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کرے، دونوں ملیں تویہ ایک طرف ہوجائے، اور وہ دوسری طرف۔ دونوں میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔

  اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں تعلق ختم کرنا پسندیدہ عمل نہیں۔اختلاف والے شخص سے سلام وکلام بند کرنا یا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا کسی بھی حال میں درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف (difference)انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ متعدد اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویے پر قائم رکھے۔ایسے لوگوں کے لیے اسلام میں بہت بڑا ثواب (reward) ہے۔

بہترین انسان وہ ہے، جو اختلاف کو ڈسکشن اور ڈائیلاگ کا ذریعہ بنائے، نہ یہ کہ اختلاف کو باہمی بگاڑ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اختلاف کوتبادلۂ خیال (discussion) کا ذریعہ بنانا چاہیے، نہ کہ ترک تعلق کا ذریعہ۔ اختلاف کو دشمنی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کو ڈسنٹ (dissent) کے طور لینا چاہیے۔ یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، مگرسماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔ 

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion