14فروری2001
گلبرگہ (کرناٹک)کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ گلبرگہ کے ایک مدرسہ میں پڑھاتے ہیں اور وہاں کی مسجد میں امام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلبرگہ میں بدعات کا بہت زیادہ رواج ہے۔ مثلاًوہ لوگ مجھ سے فاتحہ دلواتے ہیں، جومجھ کو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے۔ میں نے ان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا :فاتحہ دیجیے، مگر فتوی نہ دیجیے۔ میں نے کہا کہ فاتحہ دینا صحیح ہے یا غلط اس کی بحث نہ کیجیے۔ اپنی نیت کو درست رکھتے ہوئے جو وہ کہیں اس کو کردیجیے۔ اس کے ساتھ مثبت انداز میں ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیے۔ دھیرے دھیرے حالات اپنے آپ درست ہوجائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ نے فتویٰ کا انداز اختیار کیا تو صرف اختلاف بڑھے گا اور کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
