لندن میں ایک علمی ادارہ ہے جس کا نام ہے مسلم انسٹی ٹیوٹ۔ اس ادارہ کے تحت لندن میں حج کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار(4 تا 7 اگست 1982ء) ہوا۔ اس سیمینار میں شرکت کے لیے مجھے بھی دعوت دی گئی تھی۔ مرکزی لندن کے ایک ہوٹل میں ہمارے لیے قیام کا انتظام تھا، اس میں ایک بڑا کمرہ نماز کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ یہاں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی تھی، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کے مسلک بھی الگ الگ تھے۔ کوئی ایک ہاتھ کان پر رکھ کر اذان دیتا تھا اور کوئی دونوں ہاتھ۔ کوئی ہاتھ لٹکا کر نماز پڑھتا تھا کوئی ہاتھ باندھ کر۔ کوئی نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتا تھا اور کوئی بغیر دعا کے نماز ختم کر دیتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان اختلافی مسائل پر یہاں نہ کوئی بحث ہوئی تھی اور نہ اختلاف ۔ ہر ایک دوسرے کے مسلک پر اعتراض کیے بغیر اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھتا اور پھر باہم اس طرح ملتا جیسے ان کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ’’مغربی علما‘‘ ان مشرقی علما سے بہتر ہیں، جو انہیں امور پر باہم لڑتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ دینی مسجدیں اور مدرسے الگ الگ بنا لیتے ہیں۔ یہ دراصل میدان اختلاف میں فرق کا سوال ہے، نہ کہ خود اختلاف کا۔ مشرقی علما جب کسی مختلف مسلک والے آدمی پرتنقید کرتے ہیں تو وہ کفر و فسق کی اصطلاحوں میں کلام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، مغربی تعلیم یافتہ لوگ اس معاملہ میں اپنے مغربی اساتذہ کی نقل کرتے ہیں، وہ اپنی اختلافی شدت کو سیکولر الفاظ اور اصطلاحات تک محدود رکھتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion