3 جنوری (1994)کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے ساتھ امریکا ایک صاحب سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم لوگ ایک مقام سے گزرے۔ صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پہلے ہم لوگ یہاں رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس چھ ہزار مربع فٹ کا مکان تھا۔ خوبصورت پارک کے کنارے کا یہ مکان بہت وسیع اور بہت شاندار تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے اس کو چھوڑ کر مسجد کے قریب چھوٹا مکان لے لیا۔ یہ دوسرا مکان دو ہزار مربع فٹ کا ہے۔ علاقہ کے لحاظ سے بھی پہلا مکان نہایت اہم علاقہ میں تھا۔ جب کہ موجودہ مکان دوسرے درجہ کے علاقہ میں ہے۔ جب انہوں نے یہ مکان بدلا تو اکثر لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ اتنا اچھا مکان چھوڑ کر معمولی مکان میں آگئے۔
یہاں ہر آدمی بچوں کے بگڑنے کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر یہ شکایت میرے نزدیک بے معنی ہے۔ اس لیے کہ اس معاملہ کا تعلق بچوں سے زیادہ ان کے بڑوں سے ہے۔ بڑے لوگ اپنے چاہنے کی قیمت ادا نہیں کرتے اسی لیے وہ اپنے بچوں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کے ماحول کو دنیوی شان و شوکت سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے اپنے آپ کو مسجد والے ماحول سے قریب کرنا ہوگا۔
یہی معاملہ پوری ملت کا ہے۔ لوگ جو کچھ چاہتے ہیں اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے وہ تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوب چیز بھی ان کو نہیں ملتی مثلاً ہر آدمی اتحاد کی بات کرتا ہے مگر وہ اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ یہ اتحاد کی واحد قیمت ہے۔ لوگ سچائی کی بات کرتے ہیں، مگر وہ راہِ حق میں لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ صبر کے بغیر خدا کے پیغام کو عام کرنا ممکن ہی نہیں۔ لوگ ملت کی تعلیم و ترقی کی بات کرتے ہیں مگر وہ نزاعات کو اوائڈ کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ تعلیم و ترقی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نزاعات کو ہر حال میں اوائڈ کیا جائے۔
