7مئی2003
دہلی کے ایک تعلیم یافتہ ہندوخاتون لورین چوپڑا ملاقات کے لیے آئیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہندومسلم جھگڑوں کی جڑمذہبی اختلاف ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذہب برابرہیں اور سب مذہب یکساں طور پر سچے ہیں تو یہ آپس کا جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ سوامی وویکانند اور مہاتماگاندھی جیسے بہت سے لوگ یہی بات کہتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے اپنے لمبے مطالعہ کے بعد اس موضوع پر ایک تفصیلی کتاب تیارکی۔ وہ929صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یہ ہے:
The Essential Unity of All Religions by Bhagavan Das, Madras, 1932
میں نے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقی اور غیر عملی نظریہ ہے۔ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے، تب بھی موجودہ مذہبی جھگڑے ختم نہیں ہوں گے۔ اس لیے کہ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ مذہبوں کے ٹکسٹ کو یکساں ثابت کریں۔ مگر آپ انٹر پریٹیشن کے اختلافات کو ختم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھگوت گیتا ایک کتاب ہے۔ مگر بال گنگادھرتلک نے گیتا کا انٹر پریٹیشن ہنسا کے روپ میں دیا اور مہاتما گاندھی نے اہنسا کے روپ میں۔ ایسی حالت میں نتیجہ رخی کام تمام مذاہب کو یکساں ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اہل مذاہب میں رواداری کا مزاج پیدا کرنا ہے۔
