15 جون 1991
بعد کے دور میں جو فقہی مذاہب بنے ، ان میں حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی کو زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں سے ہر ایک کے علما کا کہنا ہے کہ انھیں کا فقہی مسلک صحیح ہے اور دوسرے مسالک غلط ہیں ۔ تاہم چوں کہ حدیث کی کتابوں میں ہر قسم کی روایتیں ہیں۔ کسی روایت سے ایک مسلک کی تائید ہوتی ہے اور کسی روایت سے دوسرے مسلک کی۔ اس لیے ان میں سے کوئی مسلک کامل یقین کا دعوی نہیں کر سکتا۔
اس نزاکت کی بنا پر ایک فقیہ نے فقہا کی پوزیشن کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے:مَذْهَبُنَا صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَمَذْهَبُ مُخَالِفِينَا خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الاشباہ و النظائر لابن نجیم،صفحہ 330)۔ یعنی، ہمارا فقہی مذہب درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور دوسرے کا فقہی مذہب نادرست ہے احتمال صحت کے ساتھ۔
یہ تطبیق دین یسر (آسان)کو دین عسر (مشکل)بنانا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسالک کا اختلاف تنوع کی بنا پر ہے ، نہ کہ اس بنا پر کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔
