4 مارچ 1984کو مدینہ کے سفر میں ایک صاحب عبدالقادرالنماری(الجزائر) نے انٹرویو لیا۔ وہ اخبار المدینہ کے نمائندہ تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات لکھ رکھے تھے۔ میں نے کچھ سوالات کے جوابات دیے اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کے جوابات سے معذرت کی۔ میں نے دیکھا کہ میرے جوابات کے بعد دوبارہ وہ نئی شق نکال کر سوال نہیں کرتے تھے اور میری معذرت فوراً قبول کر لیتے تھے۔
عبدالقادر جزائری تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور کسی جماعت کے ساتھ دہلی (نظام الدین) بھی جا چکے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحثوں میں نہیں الجھتے۔ اور نہ اختلافی امور میں زیادہ شدت ظاہر کرتے۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں ان سے گفتگو کے دوران اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہے۔ کوئی بھی جواب انہیں چپ نہیں کرتا۔ ہر جواب کے بعد وہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال کر نئی بحث شروع کر دیتے ہیں۔
