4 اگست 1994
شیخ محمد اکرام آئی سی ایس سرسید کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں :سرسید کی تصانیف میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جن سے نہ صرف مخالف بلکہ ان کے موافق بھی بدظن ہو جاتے تھے۔ سرسید نے جب بائبل کی نامکمل تفسیر لکھی تو نواب محسن الملک کو اس کی عبارت اتنی شاق گزری کہ اس وقت سرسید سے تعارف نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اس کے خلاف سرسید کو ایک طویل خط لکھا اور جب تک ان سے نہ ملے انھیں یقین نہ آتا تھا کہ سرسید قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے ہیں (موج کوثر ، صفحہ 91)۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور غلط فہمی میں کتنا قریبی تعلق ہے۔ نواب محسن الملک کو سرسید کی تفسیر بائبل سے اختلاف ہوا۔ مگر یہ اختلاف یہاں تک پہنچ گیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ سرسید نماز بھی اگر پڑھتے ہیں تو اسلامی قبلہ کی طرف رخ کر کے نہیں پڑھتے ہیں۔ حالاں کہ یہی نواب محسن الملک اختلاف کے بعد سرسید کے اتنے گرویدہ ہو گئے کہ ان کے قریبی رفیق بن گئے۔
