یکم جولائی2001

عبادت کے مسائل میں جو اختلافات فقہا کے درمیان پائے جاتے ہیں، ان کی تطبیق امام شافعی نے اس طرح کی ہے:مَذْهَبِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَمَذْهَبُ الْخَصْمِ خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الردود والنقودلابن محمودالبابرتى الحنفي، جلد1، صفحہ636)۔ میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتھ۔ میرے نزدیک تطبیق کا زیادہ درست فارمولا یہ ہے کہ یہ کہا جائے:رَأْيِي وَرَأْيُ غَيْرِي كِلَاهُمَا يَحْتَمِلَانِ الصَّوَابَ۔ یعنی میری رائے بھی درست اور میرے علاوہ دوسرے شخص کی رائے بھی درست۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آمین بالجہر تھی درست اور آمین بالسربھی درست، رفع یدین کرنا بھی درست اور رفع یدین نہ کرنا بھی درست، وغیرہ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion