2مارچ 1989
ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت امت کی اصل ضرورت اتحاد ہے، اور اس کے لیے آپ کچھ نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ آپ کے خیال سے کیا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے انھوں نے کہا کہ تمام مسلم اکابر کو جمع کیجیے اور اتحاد کے مسئلہ پر لوگوں کو توجہ دلائیے۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں سے اگر اتحاد قائم ہوسکتا تو اب تک اسے قائم ہو جانا چاہیے تھا کیوں کہ ملت کے اندر اتحاد کانفرنسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔
انھوں نے کہاکہ پھر اتحاد کی تدبیرکیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد کے لیے اتحاد کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملت کے اندر وہ استعداد موجود نہیں جس پر اتحاد کی تعمیر ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ استعداد سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے مراد ہے ملت کے افراد کے اندر اس شعور کی موجودگی کہ اتحاد اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں ۔ صحابہ کرام بلاشبہ اتحاد کی غیر معمولی مثال ہیں۔ مگر ان کا اتحاد اختلاف کے باوجود متحد ہونے کی زمین ہی پرقائم ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ حضرت عمر نے خلیفہ ٔ اول ابوبکر صدیق کا ایک فرمان بر سرعام پھاڑ کر پھینک دیا(فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر 383)۔ مگروہاں کوئی کہرام نہیں مچا۔ آج اگر کوئی شخص کسی بڑے دینی ادارہ میں جائے اور وہاں کے اکابرکی ایک کتاب پھاڑ کر پھینک دے تو وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا۔ آج اگر کوئی شخص ایک اسلامی ادارہ میں ایسا کرے تووہ وہاں سے نکال دیا جائے گا۔
اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے اندر اتحاد کی استعداد تھی، آج کے مسلمانوں میں اس کی استعداد نہیں ۔ ایسی حالت میں پہلا کام ذہنی استعداد پیدا کرنا ہے ، نہ کہ کوئی جذباتی اشو کھڑا کر کے بھیڑ جمع کرنا ۔ بھیڑ اور اتحاد کے فرق کو نہ جاننے والے ہی بھیڑ پرخوش ہوسکتے ہیں۔
