3 اگست 1994
ابن ماجہ (کتاب الفتن ) میں ایک روایت کے تحت آیا ہے:فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر3949)۔یعنی، پھر جب تم اختلاف دیکھو تو تم سواد اعظم کے ساتھ رہو ۔ اس حدیث کا مفہوم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اختلاف کے وقت سواد اعظم کا جو مسلک ہو وہی مسلک حق ہو گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔ اس کی غلطی اس سے واضح ہے کہ آج بر صغیر ہند میں 75 فیصد سے زیادہ لوگ اہل بدعت ہیں۔ پھر کیا اہل بدعت کا مسلک درست قرار دیا جائے گا۔ اس حدیث کا تعلق فتنہ کے مسئلہ سے ہے ، نہ کہ حق کے مسئلہ سے۔ فتنہ کے وقت سواد اعظم کے ساتھ رہنا اسی طرح وقتی مصلحت کے معنی میں ہے جس طرح وقتی مصلحت کے تحت حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں شرک کرنے والوں سے تعلق کو برداشت کیا تھا(طٰہٰ، 20:94)۔ ایسے موقع پر اصل سوال چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا ہوتا ہے اور فتنہ کے وقت سواد اعظم کے ساتھ رہنا اسی لیے ہے کہ اس سے ٹکر اؤ زیادہ بڑے شر کا باعث ہوگا۔
سواد اعظم اگر اس وقت حق پر ہو تو معاشرہ میں فساد کی نوبت ہی نہ آئے ۔ کیوں کہ اقلیت ہمیشہ اکثریت کے تابع ہوتی ہے ، نہ کہ جو اکثریت ہے وہ اقلیت کے تابع ہو جائے۔
