11جنوری2001
قرآن کے بعد حدیث اسلام کا سب سے بڑاماخذ ہے۔ پچھلے چودہ سو سال میں سب سے زیادہ کام حدیث پر ہوا ہے۔ مگر جو شخص بھی حدیث پڑھتا ہے اس کو حدیث سے کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن ایک فکری کتاب ہے۔ اس میں عملی تفصیلات نہیں۔ اس لیے قرآن کے مضامین میں فرق و اختلاف کا سوال نہیں۔ مگر حدیث میں اسلامی زندگی کی عملی تفصیلات ہیں۔ اس لیے حدیث میں ہزاروں کی تعداد میں فرق اور اختلاف پائے جاتے ہیں۔
حدیث میں یہ فرق و اختلاف فطری تنوع کی بنا پر تھا۔ مگر علما اور فقہا نے غلط طورپر یہ سمجھا کہ حدیث کو قرآن کی طرح ہوناچاہیے۔ تمام حدیثوں سے ایک ہی مسلک اور ایک ہی مسئلہ نکلنا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے حدیث میں لامتناہی بحثوں کا سلسلہ چھیڑدیا۔ ہر عالم اور ہر فقیہ حدیث میں وحدتِ مسلک تلاش کرنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں وحدت تو حاصل نہیں ہوئی البتہ علم حدیث اختلافات کا ناقابلِ عبور جنگل بن گیا۔
میں نے اللہ کی توفیق سے یہ دریافت کیا کہ حدیثوں میں فرق و اختلاف فطری تنوع کی بنا پر ہے۔ یعنی ہر ثابت شدہ مسلک اپنی جگہ پر درست ہے۔ ان میں نہ کوئی افضل ہے اور نہ کوئی غیر افضل، ان میں نہ کوئی راجح ہے اور نہ کوئی مرجوح، ان میں نہ کوئی ناسخ ہے اور نہ کوئی منسوخ۔ اس دریافت کے بعد میں نے اپنی زندگی کا مشکل ترین کام شروع کیا ہے۔ یعنی آج کل مطالعہ حدیث (شرح مشکاۃ)کے نام سے میں شاید اپنی آخری کتاب لکھ رہا ہوں، جس میں تقریباً 7000حدیثوں کی تشریح ہوگی۔ آج کی تاریخ تک1211 حدیثوں کی تشریح ہوچکی ہے اور610صفحات لکھے جاچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کام کی تکمیل کا انتظام فرمائے۔
