26 اپریل 1986

مولانا کبیر الدین فاران(ہماچل پردیش)سے ملاقات ہوئی۔ وہ ذہین آدمی ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرے اندر تنقیدی مزاج ہے۔ مجھے کسی رائے سے اختلاف ہوتا ہے تو میں فوراً اس کا اظہار کر دیتا ہوں۔

میں نے کہا کہ یہ مزاج بذات خود صحیح مزاج ہے۔ مگر مسلمان عام طور پر’’ اختلافِ رائے‘‘ اور ’’ اختلافِ امر‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔اختلافِ رائے یعنی سوچ کا فرق اور اختلافِ امر یعنی عملی مخالفت۔ میرے نزدیک اختلافِ رائے ایک جائز عمل ہے ، مگر اختلافِ امر بالکل ناجائز ہے۔ اختلافِ رائے اور اختلافِ امر میں فرق کی مثالیں اصحابِ رسول کے یہاں بھی موجود ہیں۔ حضرت عثمان کے زمانے میں صحابیِ رسول ابو ذر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ۔ وہاں ان کومعلوم ہوا کہ خلیفہ ثالث عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے دوران چار رکعتیں پڑھی ہے، قصر نہیں کیا ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے سخت الفاظ میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا :میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ آپ نے صرف دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ابوبکر وعمر کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ اس کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی ۔ لوگوں نے کہا :آپ نے امیر المومنین پر چاررکعت کے لیے اعتراض کیا اور خود وہی کر رہے ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا :الْخِلَافُ أَشَدُّ (مسنداحمد، حدیث نمبر21460)۔ یعنی،عملی مخالفت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔

اسی قسم کا واقعہ مشہور صحابیِ رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ہے۔ انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے منیٰ میں چار رکعت پڑھنے پر بہت ہی سخت الفاظ میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پھر خود چار رکعت پڑھی ۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا :اختلاف کرنا برا ہے (‌الْخِلَافُ ‌شَرٌّ) سنن ابو داؤد، حدیث نمبر1960۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں رائے کے معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ امر اور نظم (system) سے اختلاف کرنا بھی ان کے لیے درست ہے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے مسلمانوں سے کوئی متحدہ کام نہیں ہو پاتا۔

حدیث ’’اخْتِلافُ ‌أُمَّتِي ‌رَحْمَةٌ‘‘ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی،حدیث نمبر39) کا مطلب بھی یہی ہے۔یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔اس حدیث میں اختلافِ رائے کے اظہار کو رحمت کہا گیا ہے، نہ کہ عملی اختلاف و انتشار کو۔افراد کو ہر کام میں اجتماعی نظم کا پابند رہنا چاہیے۔البتہ اختلافِ رائے كو مثبت طريقے سے ظاهر كرنے کے معاملہ میں ان پر کوئی پابندی نہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ کسی بھی شخص سے رائے کے معاملہ میں اختلاف کر سکتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion